اللولؤ والمرجان - حدیث 1899

كتاب التفسير باب التفسير صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: آيَةٌ اخْتَلَفَ فِيهَا أَهْلُ الْكُوفَةِ فَرَحَلْتُ فِيهَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا فَقَالَ: نَزَلَتْ هذِهِ الآيَةُ (وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ) هِيَ آخِرُ مَا نَزَلَ، وَمَا نَسَخَهَا شَيْءٌ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1899

کتاب: قرآن حکیم کی چند آیتوں کی تفسیر باب: قرآن حکیم کی چند آیتوں کی تفسیر حضرت سعید بن جبیر صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ علماء کوفہ کا ایک آیت کے بارے میں اختلاف ہو گیا تھا۔ چنانچہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہماکی خدمت میں اس کے لیے سفر کر کے گیا اور ان سے اس کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت ’’اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے اس کی سزا دوزخ ہے۔‘‘ (النساء:۳۹) نازل ہوئی اور اس باب کی یہ سب سے آخری آیت ہے، اسے کسی دوسری آیت نے منسوخ نہیں کیا ہے۔
تشریح : بلا وجہ کسی بھی انسان کا خون نا حق بہت بڑا گناہ ہے۔ قرآن مجید نے ایسے قاتلوں کو پوری نوع انسانی کا قاتل قرار دیا ہے۔ پھر اگر یہ خون ناحق کسی مومن و مسلمان کا ہے تو اس قاتل کو قرآن مجید نے ابدی دوزخی قرار دیا ہے۔ (راز)
تخریج : أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 4 سورة النساء: 16 باب ومن يقتل مؤمنًا متعمدًا فجزاؤه جهنم بلا وجہ کسی بھی انسان کا خون نا حق بہت بڑا گناہ ہے۔ قرآن مجید نے ایسے قاتلوں کو پوری نوع انسانی کا قاتل قرار دیا ہے۔ پھر اگر یہ خون ناحق کسی مومن و مسلمان کا ہے تو اس قاتل کو قرآن مجید نے ابدی دوزخی قرار دیا ہے۔ (راز)