كتاب التفسير باب التفسير صحيح حديث عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَجُلاً مِنَ الْيَهُودِ قَالَ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا، لَوْ عَلَيْنَا، مَعْشَرَ الْيَهُودِ نَزَلَتْ، لاَتَّخَذْنَا ذلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا قَالَ: أَيُّ آيَةٍ قَالَ (الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا) قَالَ عُمَرُ: قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ، وَالْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ، يَوْمَ جُمُعَةٍ
کتاب: قرآن حکیم کی چند آیتوں کی تفسیر
باب: قرآن حکیم کی چند آیتوں کی تفسیر
ایک دفعہ ایک یہودی نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے امیر المومنین! آپ کی کتاب (قرآن) میں ایک آیت ہے جسے آپ پڑھتے ہیں۔ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس (کے نزول کے) دن کو یوم عید بنا لیتے۔ آپ نے پوچھا وہ کونسی آیت ہے؟ اس نے جواب دیا (سورۂ مائدہ کی یہ آیت کہ) ’’آج میں نے تمھارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمھارے لیے دین اسلام پسند کیا؟حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم اس دن اور اس مقام کو (خوب) جانتے ہیں جب یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں جمعہ کے دن کھڑے ہوئے تھے۔
تشریح :
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ جمعہ اور عرفہ کا دن ہمارے ہاں عید ہی مانا جاتا ہے۔ اس لیے ہم بھی اس مبارک دن میں اس آیت کے نزول پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ (راز)
تخریج :
أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 33 باب زيادة الإيمان ونقصانه
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ جمعہ اور عرفہ کا دن ہمارے ہاں عید ہی مانا جاتا ہے۔ اس لیے ہم بھی اس مبارک دن میں اس آیت کے نزول پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ (راز)