كتاب الحيض باب استحباب استعمال المغتسلة من الحيض فرصة من مسك في موضع الدم صحيح حديث عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ، فَأَمَرَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ، قَالَ: خُذِي فِرْصَةَ مِنْ مِسْكٍ فَتَطَهَّرِي بِهَا، قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا قَالَ: تَطَهَّرِي بِهَا، قَالَتْ: كَيْفَ قَالَ: سُبْحانَ اللهِ تَطَهَّرِي بِهَا فَاجْتَبَذْتُهَا إِلَيَّ، فَقُلْتُ تَتَبَعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ
کتاب: حیض کے مسائل
باب: جو عورت حیض کا غسل کرے وہ کپڑے یا روئی کو مشک لگا کر خون کے مقام پر استعمال کرے تو مستحب ہے
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ ایک (انصاری) عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں حیض کا غسل کیسے کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشک میں بسا ہوا کپڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کر۔ اس نے پوچھا۔ اس سے کس طرح پاکی حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا اس سے پاکی حاصل کر۔ اس نے دوبارہ پوچھا کہ کس طرح؟ آپ نے فرمایا، سبحان اللہ! پاکی حاصل کر۔ پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور کہا کہ خون لگی ہوئی جگہوں پر پھیر لیا کر۔
تشریح :
اس غسل کی کیفیت مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ اچھی طرح سے پاکی حاصل کر، پھر اپنے سر پر پانی ڈال تاکہ پانی بالوں کی جڑوں میں پہنچ جائے، پھر سارے بدن پر پانی ڈال لے۔ (راز)
تخریج :
أخرجه البخاري في: 6 كتاب الحيض: 13 باب دلك المرأة نفسها إذا تطهرت من المحيض
اس غسل کی کیفیت مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ اچھی طرح سے پاکی حاصل کر، پھر اپنے سر پر پانی ڈال تاکہ پانی بالوں کی جڑوں میں پہنچ جائے، پھر سارے بدن پر پانی ڈال لے۔ (راز)