اللولؤ والمرجان - حدیث 1888

كتاب الزهد والرقائق باب النهي عن المدح إِذَا كان فيه إِفراط وخيف منه فتنة الممدوح صحيح حديث أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: أَثْنى رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ مِرَارًا ثُمَّ قَالَ: مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ، لاَ مَحَالَةَ، فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ فُلاَنًا وَاللهُ حَسِيبُهُ وَلاَ أُزَكِّي عَلَى اللهِ أَحَدًا أَحْسِبُهُ كَذَا وَكَذَا، إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذلِكَ مِنْهُ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1888

کتاب: دنیا سے نفرت دلانے اور دل کو نرم کرنے والی احادیث کا بیان باب: اتنی زیادہ تعریف کرنا کہ دوسرا کسی غلط فہمی میں مبتلا ہو جائے، منع ہے حضرت ابی بکرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ ایک شخص نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دوسرے شخص کی تعریف کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس! تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی۔ تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی، کئی مرتبہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا) پھر فرمایا کہ اگر کسی کے لیے اپنے کسی بھائی کی تعریف کرنی ضروری ہو جائے تو یوں کہے کہ میں فلاں شخص کو ایسا سمجھتا ہوں، آگے اللہ خوب جانتا ہے، میں اللہ کے سامنے کسی کو بے عیب نہیں کہہ سکتا۔ میں سمجھتا ہوں وہ ایسے ایسے ہے اگر اس کاحال جانتا ہو۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 52 كتاب الشهادات: 16 باب إذا زكى رجل رجلاً كفاه