كتاب الحيض باب استحباب إِفاضة الماء على الرأس وغيره ثلاثا صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: إِنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ هُوَ وَأَبُوهُ، وَعِنْدَهُ قَوْمٌ، فَسَأَلُوهُ عَنِ الْغُسْلِ، فَقَالَ: يَكْفِيكَ صَاعٌ، فَقَالَ رَجُلٌ: مَا يَكْفِينِي؛ فَقَالَ جَابِرٌ: كَانَ يَكْفِي مَنْ هُوَ أَوْفَى مِنْكَ شَعَرًا، وَخَيْرٌ مِنْكَ ثُمَّ أَمَّنَا فِي ثَوْبٍ
کتاب: حیض کے مسائل
باب: سر وغیرہ پر تین مرتبہ پانی ڈالنے کا بیان
سیّدنا ابو جعفر نے بیان کیا کہ وہ اور ان کے والد (سیّدنا زین العابدین) سیّدنا جابر بن عبداللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس تھے اور کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے ان لوگوں نے آپ سے غسل کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ ایک صاع کافی ہے اس پر ایک شخص بولا یہ مجھے تو کافی نہ ہو گا۔ سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ ان کے لئے کافی ہوتا تھا جن کے بال تم سے زیادہ تھے اور جو تم سے بہتر تھے (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) پھر سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ نے صرف ایک کپڑا پہن کر ہمیں نماز پڑھائی۔
تشریح :
وہ بولنے والے شخص حسن بن محمد بن حنفیہ تھے (یعنی سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے پوتے) سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ نے ان کو سختی سے سمجھایا۔ جس سے معلوم ہوا کہ حدیث کے خلاف فضول اعتراض کرنے والوں کو سختی سے سمجھانا چاہیے اور حدیث کے مقابلے میں رائے، قیاس، تاویل سے کام لینا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔ (راز)
تخریج :
أخرجه البخاري في: 5 كتاب الغسل: 3 باب الغسل بالصاع ونحوه
وہ بولنے والے شخص حسن بن محمد بن حنفیہ تھے (یعنی سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے پوتے) سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ نے ان کو سختی سے سمجھایا۔ جس سے معلوم ہوا کہ حدیث کے خلاف فضول اعتراض کرنے والوں کو سختی سے سمجھانا چاہیے اور حدیث کے مقابلے میں رائے، قیاس، تاویل سے کام لینا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔ (راز)