اللولؤ والمرجان - حدیث 1856

كتاب الفتن وأشراط الساعة باب ذكر الدجال وصفته وما معه صحيح حديث حُذَيْفَةَ قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرِو لِحُذَيْفَةَ: أَلاَ تُحَدِّثُنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ مَعَ الدَّجَالِ، إِذَا خَرَجَ، مَاءً وَنَارًا فَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهَا النَّارُ، فَمَاءٌ بَارِدٌ وَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهُ مَاءٌ بَارِدٌ، فَنَارٌ تُحْرِقُ فَمَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ، فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَى أَنَّها نَارٌ، فَإِنَّهُ عَذْبٌ بَارِدٌ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1856

کتاب: فتنوں اور قیامت کی نشانیوں کا بیان باب: دجال اور اس کے اوصاف اور جو کچھ اس کے ساتھ ہو گا حضرت عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا، کیا آپ وہ حدیث ہم سے نہیں بیان کریں گے جو آپ نے رسول اللہ سے سنی تھی؟ حضرت حذیفہنے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ جب دجال نکلے گا تو اس کے ساتھ آگ اور پانی دونوں ہوں گے۔ لیکن جو لوگوں کو آگ دکھائی دے گی وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور جو لوگوں کو ٹھنڈا پانی دکھائی دے گا تو وہ جلانے والی آگ ہوگی۔ اس لئے تم میں سے جو کوئی اس کے زمانے میں تو اسے اس میں گرنا چاہئے جو آگ ہوگی کیونکہ وہی انتہائی شیریں اور ٹھنڈا پانی ہوگا۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 50 باب ما ذكر عن بني إسرائيل