اللولؤ والمرجان - حدیث 1810

كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها باب النار يدخلها الجبارون والجنة يدخلها الضعفاء صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ، حَتَّى يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ فَتَقُولُ قطِ قَطِ وَعِزَّتِكَ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْض

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1810

کتاب: جنت اور اس کی نعمتیں اور اہل جنت کے اوصاف باب: ظالم اور جابر لوگ آگ میں جائیں گے اور کمزور لوگ جنت میں جائیں گے سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم برابر یہی کہتی رہے گی کہ کیا کچھ اور ہے کیا کچھ اور ہے؟ آخر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے گا تو وہ کہہ اٹھے گی بس بس میں بھر گئی، تیری عزت کی قسم!اور اس کا بعض حصہ بعض کو کھانے لگے گا۔
تشریح : روایت میں ’’قدم‘‘ کا لفظ آیا ہے جس پر ایمان لانا فرض ہے اور اس کی حقیقت کے اندر بحث کرنا بدعت ہے۔ اور حقیقت کو علم الٰہی کے حوالے کر دینا کافی ہے۔ سلف صالحین کا یہی عقیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر تشبیہ سے منزہ ہے۔ (راز)
تخریج : أخرجه البخاري في: 83 كتاب الأيمان والنذور: 12 باب الحلف بعزة الله وصفاته وكلماته روایت میں ’’قدم‘‘ کا لفظ آیا ہے جس پر ایمان لانا فرض ہے اور اس کی حقیقت کے اندر بحث کرنا بدعت ہے۔ اور حقیقت کو علم الٰہی کے حوالے کر دینا کافی ہے۔ سلف صالحین کا یہی عقیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر تشبیہ سے منزہ ہے۔ (راز)