كتاب صفات المنافقين وأحكامهم باب الاقتصاد في الموعظة صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ كَانَ يُذَكِّرُ النَّاسَ فِي كُلِّ خَمِيسٍ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمنِ لَوَدِدْتُ أَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ قَالَ: أَمَا إِنَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْ ذلِكَ أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ وَإِنِّي أَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ، كَمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا بِهَا، مَخَافَة السَّآمَةِ عَلَيْنَا
کتاب: منافقوں کے اوصاف اور ان کے متعلق احکامات
باب: وعظ میں میانہ روی اختیار کرنا
سیّدناعبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کے دن لوگوں کو وعظ سنایا کرتے تھے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا اے ابو عبدالرحمن! میں چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں ہر روز وعظ سنایا کریں۔ انھوں نے فرمایا، سنو! مجھے اس امر سے کوئی چیز مانع ہے تو یہ کہ میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ کہیں تم تنگ نہ ہو جاؤ اور میں وعظ میں تمھاری فرصت کا وقت تلاش کیا کرتا ہوں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس خیال سے کہ ہم کبیدہ خاطر نہ ہو جائیں، وعظ کے لیے ہمارے اوقات فرصت کا خیال رکھتے تھے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 12 باب من جعل لأهل العلم أيامًا معلومة