كتاب صفات المنافقين وأحكامهم باب مثل المؤمن كالزرع ومثل الكافر كشجر الأرز صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ، مِنْ حَيْثُ أَتَتْهَا الرِّيحُ كَفَأَتْهَا فَإِذَا اعْتَدَلَتْ تَكَفَّأُ بِالْبَلاَءِ وَالْفَاجِرُ كَالأَرْزَةِ، صَمَّاءَ، مُعْتَدِلَةً حَتَّى يَقْصِمَهَا اللهُ، إِذَا شَاءَ
کتاب: منافقوں کے اوصاف اور ان کے متعلق احکامات
باب: مومن اور کافر کی مثال کا بیان جو کہ پودے کی شاخ اور صنوبر کے درخت کی ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال پودے کی پہلی نکلی ہوئی اس شاخ جیسی ہے کہ جب بھی ہوا چلتی ہے اسے جھکا دیتی ہے پھر وہ سیدھا ہو کر مصیبت برداشت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور بدکار کی مثال صنوبر کے درخت جیسی ہے کہ سخت ہوتا ہے اور سیدھا کھڑا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے اسے اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 75 كتاب المرضى: 1 باب ما جاء في كفارة المرض