كتاب صفات المنافقين وأحكامهم باب طلب الكافر الفداء بملء الأرض ذهبًا صحيح حديث أَنَسٍ، يَرْفَعُهُ، أَنَّ اللهَ يَقُولُ لأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا: لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ، كُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: لَقَدْ سَأَلْتُك مَا هُوَ أَهْوَنُ مِنْ هذَا، وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ، أَنْ لاَ تُشْرِكَ بِي، فَأَبَيْتَ إِلاَّ الشِّرْك
کتاب: منافقوں کے اوصاف اور ان کے متعلق احکامات
باب: کافر کی آرزو ہو گی کہ زمین برابر سونا ہوتا تو وہ بھی بطور فدیہ دے دیتا
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اس شخص سے پوچھے گا جسے دوزخ کا سب سے ہلکا عذاب کیا گیا ہوگا۔ اگر دنیا میں تمہاری کوئی چیز ہوتی تو کیا تو اس عذاب سے نجات پانے کے لیے اسے بدلے میں دے سکتا تھا؟ وہ شخص کہے گا کہ جی ہاں اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جب تو آدم کی پیٹھ میں تھا تو میں نے تجھ سے اس سے بھی معمولی چیز کا مطالبہ کیا تھا۔ (روز ازل میں) کہ میرا کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرانا ٗ لیکن (جب تو دنیا میں آیا تو) اسی شرک کا عمل اختیار کیا۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 1 باب خلق آدم صلوات الله عليه وذريته