كتاب صفات المنافقين وأحكامهم باب في قوله تعالى وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم الآية صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو جَهْلٍ: اللهُمَّ إِنْ كَانَ هذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ فَنَزَلَتْ (وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ وَمَا لَهُمْ أَنْ لاَ يُعَذِّبَهُمُ اللهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ) الآية
کتاب: منافقوں کے اوصاف اور ان کے متعلق احکامات
باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وما کان اللّٰہ لیعذبہم وانت فیہم﴾ کا بیان
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوجہل نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ کلام تیری طرف سے واقعی حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا پھر کوئی اور ہی عذاب لے آ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ’’حالانکہ اللہ ایسا نہیں کرے گا کہ انہیں عذاب دے اس حال میں کہ آپ ان میں موجود ہوں اور نہ اللہ ان پر عذاب لائے گا، اس حال میں کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔ ان لوگوں کو اللہ کیوں نہ عذاب کرے جن کا حال یہ ہے کہ وہ مسجد حرام سے روکتے ہیں۔ اور یہ اس مسجد کے متولی ہونے کے لائق بھی نہیں ہیں اس کے حق دار تو صرف پرہیزگار لوگ ہیں، لیکن اکثر لوگ بے علم ہیں۔‘‘ (الانفال: ۳۳، ۳۴)
تخریج : أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 8 سورة الأنفال: 4 باب وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم