كتاب صفات المنافقين وأحكامهم باب سؤال اليهود النبيّ صلی اللہ علیہ وسلم عن الروح وقوله تعالى يسئلونك عن الروح الآية صحيح حديث خَبَّابٍ قَالَ: كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلَ دَيْنٌ فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ قَالَ لاَ أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: لاَ أَكْفُرُ حَتَّى يُمِيتَكَ اللهُ، ثُمَّ تُبْعَثَ قَالَ: دَعْنِي حَتَّى أَمُوتَ وَأُبْعَثَ، فَسَأُوتَى مَالاً وَوَلَدًا، فَأَقْضِيَكَ، فَنَزَلَتْ (أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا، وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالاً وَوَلَدًا أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمنِ عَهْدًا)
کتاب: منافقوں کے اوصاف اور ان کے متعلق احکامات
باب یہود کا روح کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال اور فرمان الٰہی ’’آپ سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں‘‘ کی تفسیر
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں جاہلیت کے زمانے میں لوہار کا کام کیا کرتا تھا۔ عاص بن وائل (کافر) پر میرا کچھ قرض تھا۔ میں ایک دن اس پر تقاضا کرنے گیا۔ اس نے کہا کہ جب تک تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کرے گا میں تیرا قرض نہیں دوں گا۔ میں نے جواب دیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک اللہ تعالیٰ تیری جان نہ لے لے، پھر تو دوبارہ اٹھایا جائے، اس نے کہا کہ پھر مجھے بھی مہلت دے کہ میں مر جاؤں، پھر دوبارہ اٹھایا جاؤں اور مجھے مال اور اولاد ملے گا اس وقت میں بھی تمھارا قرض ادا کروں گا۔ اس پر آیت نازل ہوئی ’’کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کو نہ مانا اور کہا کہ (آخرت میں) مجھے مال اور دولت دی جائے گی، کیا اسے غیب کی خبر ہے؟ یا اس نے اللہ تعالیٰ کے ہاں سے کوئی اقرار لے لیا ہے‘‘۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 29 باب ذكر القين والحداد