اللولؤ والمرجان - حدیث 1780

كتاب صفات المنافقين وأحكامهم باب سؤال اليهود النبيّ صلی اللہ علیہ وسلم عن الروح وقوله تعالى يسئلونك عن الروح الآية صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي خَرِبِ الْمَدِينَةِ، وَهُوَ يَتَوكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ مَعَهُ فَمَرَّ بِنَفَرٍ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لاَ تَسْأَلُوهُ، لاَ يَجِيءُ فِيهِ بِشَيْءٍ تَكْرَهُونَهُ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَنَسْأَلَنَّهُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ مَا الرُّوحُ فَسكَتَ فَقُلْتُ إِنَّهُ يُوحى إِلَيْهِ، فَقُمْتُ فَلَمَّا انْجَلَى عَنْهُ، فَقَالَ: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِيلاً

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1780

کتاب: منافقوں کے اوصاف اور ان کے متعلق احکامات باب یہود کا روح کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال اور فرمان الٰہی ’’آپ سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں‘‘ کی تفسیر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے کھنڈرات میں چل رہا تھا اور آپ کھجور کی چھڑی پر سہارا دے کر چل رہے تھے تو کچھ یہودیوں کا (ادھر سے) گزر ہوا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ سے روح کے بارے میں کچھ پوچھو، ان میں سے کسی نے کہا مت پوچھو، ایسا نہ ہو کہ وہ کوئی ایسی بات کہہ دیں جو تمھیں ناگوار ہو (مگر) ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم ضرور پوچھیں گے، پھر ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: اے ابو القاسم( صلی اللہ علیہ وسلم )! روح کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار فرمائی، میں نے (دل میں) کہا کہ آپ پر وحی آ رہی ہے۔ اس لیے میں کھڑا ہو گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (وہ کیفیت) دور ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (قرآن کی یہ آیت جو اس وقت نازل ہوئی تھی) تلاوت فرمائی ’’(اے نبی!) تم سے یہ لوگ روح کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ کہہ دو کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے۔ اور تمھیں علم کا بہت تھوڑا حصہ دیا گیا ہے۔‘‘ (اس لیے تم روح کی حقیقت نہیں سمجھ سکتے)
تشریح : اہل سنت کے نزدیک روح جسم لطیف ہے جو بدن میں اس طرح سرایت کیے ہوئے ہے، جس طرح گلاب کی خوشبو اس کے پھول میں سرایت کیے ہوئے ہوتی ہے۔ ہم اپنی موجودہ زندگی میں جو کثافت سے بھر پور ہے کسی طرح روح کی حقیقت سے واقف نہیں ہو سکتے۔ روح کے متعلق مزید تفصیلات امام ابن قیم کی ’’کتاب الروح‘‘ میں ملاحظہ فرمائیں۔ (راز)
تخریج : أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 47 باب قول الله تعالى (وما أوتيتم من العلم إلا قليلاً) اہل سنت کے نزدیک روح جسم لطیف ہے جو بدن میں اس طرح سرایت کیے ہوئے ہے، جس طرح گلاب کی خوشبو اس کے پھول میں سرایت کیے ہوئے ہوتی ہے۔ ہم اپنی موجودہ زندگی میں جو کثافت سے بھر پور ہے کسی طرح روح کی حقیقت سے واقف نہیں ہو سکتے۔ روح کے متعلق مزید تفصیلات امام ابن قیم کی ’’کتاب الروح‘‘ میں ملاحظہ فرمائیں۔ (راز)