اللولؤ والمرجان - حدیث 1774

كتاب صفات المنافقين وأحكامهم باب صفة القيامة والجنة والنار صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، قَالَ: جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الأَحْبَارِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّا نَجِدُ أَنَّ اللهَ يَجْعَلُ السَّموَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْمَاءَ وَالثَرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَسَائِرَ الْخَلاَئِقِ عَلَى إِصْبَعٍ فَيَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، تَصْدِيقًا لِقَوْلِ الْحَبْرِ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ، وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَالسَّموَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1774

کتاب: منافقوں کے اوصاف اور ان کے متعلق احکامات باب: قیامت، جنت اور دوزخ کا بیان حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ علماء یہود میں سے ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )! ہم تو رات میں پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اس طرح زمین کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر، پانی اور مٹی کوایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر، پھرفرمائے گا کہ میں ہی بادشاہ ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ہنس دیئے اور آپ کے سامنے کے دانت دکھائی دینے لگے۔ آپ کا یہ ہنسنا اس یہودی عالم کی تصدیق میں تھا۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔’’اور ان لوگوں نے اللہ کی عظمت نہ کی جیسی عظمت کرنا چاہئے تھی اور حال یہ ہے کہ ساری زمین اسی کی مٹھی میں ہو گی قیامت کے دن اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوں گے۔ وہ ان لوگوں کے شرک سے بالکل پاک اور بلند تر ہے۔‘‘
تخریج : أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 39 سورة الزمر: 2 باب وما قدروا الله حق قدره