اللولؤ والمرجان - حدیث 1770

كتاب صفات المنافقين وأحكامهم باب صفات المنافقين وأحكامهم صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، أَنَّ رِجَالاً مِنَ الْمُنَافِقِينَ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَزْوِ، تَخَلَّفُوا عَنْهُ، وَفَرِحُوا بِمَقْعَدِهِمْ خِلاَفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اعْتَذَرُوا إِلَيْهِ، وَحَلَفُوا، وَأَحَبُّوا أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَنَزَلَتْ (لاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ) الآية

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1770

کتاب: منافقوں کے اوصاف اور ان کے متعلق احکامات باب: منافقوں کے اوصاف اور ان کے متعلق احکامات سیّدناابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چند منافقین ایسے تھے کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لیے تشریف لے جاتے تو یہ مدینہ میں پیچھے رہ جاتے اور پیچھے رہ جانے پر بہت خوش ہوا کرتے تھے لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم واپس آتے تو عذر بیان کرتے اور قسمیں کھا لیتے بلکہ ان کو ایسے کام پر تعریف کروانا پسند ہونا جس کو انہوں نے نہ کیا ہوتا اور بعد میں چکنی چپڑی باتوں سے اپنی بات بنانا چاہتے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی پر یہ آیت نازل فرمائی۔ ’’وہ لوگ جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو انہوں نے نہیں کیا اس پر بھی ان کی تعریفیں کی جائیں تو انہیں عذاب سے چھٹکارہ میں نہ سمجھو ان کے لیے تو درد ناک عذاب ہے۔ (آل عمران: ۱۸۸)
تخریج : أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 3 سورة آل عمران: 16 باب لا يحسبن الذين يفرحون بما أتوا