اللولؤ والمرجان - حدیث 1702

كتاب القدر باب معنى كل مولود يولد على الفطرة، وحكم موت أطفال الكفار وأطفال المسلمين صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلاَّ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَا تنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيرَةَ رضي الله عنه: (فِطْرَةَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ، ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ)

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1702

کتاب: تقدیر کے مسائل باب: ’’ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے‘‘ اس کا مفہوم اور کافروں اور مسلمانوں کی جو اولاد بچپن میں فوت ہو جاتی ہے ان کا بیان حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں ۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک جانور ایک صحیح سالم جانور جنتا ہے کیا تم اس کا کوئی عضو (پیدائشی طور پر) کٹا ہوا دیکھتے ہو؟ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کی فطرت ہے جس پر لوگوں کو اس نے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خلقت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں‘ یہی دین قیم ہے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 80 باب إذا أسلم الصبي فمات هل يصلى عليه