اللولؤ والمرجان - حدیث 1701

كتاب القدر باب قدِّر على ابن آدم حظه من الزنا وغيره صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ ذَلِكَ، لاَ مَحَالَةَ فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ، وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ وَيُكَذِّبُهُ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1701

کتاب: تقدیر کے مسائل باب: ابن آدم کی تقدیر میں زنا وغیرہ کا کچھ نہ کچھ حصہ لکھ دیا گیا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے معاملہ میں زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے جس سے وہ لامحالہ دوچار ہو گا، پس آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے، دل کا زنا یہ ہے کہ وہ خواہش اور آرزو کرتا ہے، پھر شرمگاہ اس خواہش کو سچا کرتی ہے یا جھٹلا دیتی ہے۔
تشریح : مطلب یہ ہے کہ نفس میں زنا کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ اب اگر شرم گاہ سے زنا کیا تو زنا کا گناہ لکھا گیا اور اگر خدا کے ڈر سے زنا سے باز رہا تو خواہش غلط اور جھوٹ ہو گئی۔ اس صورت میں معافی ہو جائے گی۔ (راز)
تخریج : أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 12 باب زنا الجوارح دون الفرج مطلب یہ ہے کہ نفس میں زنا کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ اب اگر شرم گاہ سے زنا کیا تو زنا کا گناہ لکھا گیا اور اگر خدا کے ڈر سے زنا سے باز رہا تو خواہش غلط اور جھوٹ ہو گئی۔ اس صورت میں معافی ہو جائے گی۔ (راز)