اللولؤ والمرجان - حدیث 1700

كتاب القدر باب حجاج آدم وموسى عليهما السلام صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسى فَقَالَ لَهُ مُوسى: يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا، خَيَّبْتَنَا، وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ قَالَ لَهُ آدَمُ: يَا مُوسى اصْطَفَاكَ اللهُ بِكَلاَمِهِ، وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ، أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَ اللهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً فَحَجَّ آدَمُ مُوسى ثَلاَثًا

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1700

کتاب: تقدیر کے مسائل باب: حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مباحثہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’آدم اور موسیٰ رحمہ اللہ نے مباحثہ کیا۔‘‘ موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا آدم!آپ ہمارے باپ ہیں مگر آپ ہی نے ہمیں محروم کیا اور جنت سے نکالا۔ آدم علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا موسیٰ!آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کے لئے برگزیدہ کیا اور اپنے ہاتھ سے آپ کے لئے تورات کو لکھا۔ کیا آپ مجھے ایک ایسے کام پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا۔ آخر آدم علیہ السلام بحث میں موسیٰ علیہ السلام پر غالب آئے۔ تین مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ فرمایا۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 82 كتاب القدر: 11 باب تحاج آدم وموسى عند الله