اللولؤ والمرجان - حدیث 1683

كِتَابُ البِرِّ والصِّلَةِ وَالآدَابِ باب تَحْرِیمِ تَعْذِیبِ الہِرَّۃِ وَنَحْوِہَا مِنَ الحَیْوَانِ الَّذِی لاَ یُؤذِی صحيح حَدِيثُ عَبْدِ الله بْنُ عُمَرَ رضي الله عنهما، أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ، سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ. لاَ هِيَ أَطْعَمَتُهَا، وَلاَ سَقَتْهَا، إِذْ حَبَسَتْهَا. وَلاَ هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ»

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1683

کتاب: نیکی اور سلوک اور ادب کے مسائل باب: بے ضرر جانور جیسے بلی وغیرہ کو تکلیف دینا حرام ہے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (بنی اسرائیل کی) ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا تھا جسے اس نے قید کر رکھا تھا جس سے وہ بلی مر گئی تھی اور اس کی سزا میں وہ عورت دوزخ میں گئی۔ جب وہ عورت بلی کو باندھے ہوئے تھی تو نہ اس نے اسے کھانے کے لیے کوئی چیز دی ٗ نہ پینے کے لیے اور نہ اس نے بلی کو چھوڑا ہی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھا لیتی۔
تخریج : أخرجہ البخاري في: 60 کتاب الأنبیاء: 54 حدثنا أبو الیمان۔