كِتَابُ البِرِّ والصِّلَةِ وَالآدَابِ باب مُدَارَاةِ مَنْ يُتَّقَى فُحْشُهُ صحيح حَدِيثُ عَائِشَةَ رَضي الله عنها، قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «ائْذَنُوا لَهُ، بِئْسَ أَخو العَشِيرَةِ، أَو ابْنُ العَشِيرَةِ» فَلَمَّا دَخَلَ، أَلاَنَ لَهُ الكَلاَمَ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ الله! قُلْتَ الَّذِي قُلْتَ، ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الكَلاَمَ! قَالَ: «أَيْ عَائِشةُ! إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ (أَوْ وَدَعَهُ النَّاسُ) اتِّقَاءَ فُحْشِهِ»
کتاب: نیکی اور سلوک اور ادب کے مسائل
باب: جس کی برائی کا ڈر ہو، اس کی ظاہری طور پر خاطر داری کرنا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اجازت دے دو، فلاں قبیلہ کا یہ برا آدمی ہے۔ جب وہ شخص اندر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ بڑی نرمی سے گفتگو کی۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ !آپ کو اس کے متعلق جو کچھ کہنا تھا وہ ارشاد فرمایا اور پھر اس کے ساتھ نرم گفتگو کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ!وہ آدمی بدترین ہے جسے اس کی بدکلامی کے ڈر سے لوگ چھوڑ دیں۔
تخریج : أخرجہ البخاري في: 78 کتاب الأدب: 48 باب ما یجوز من اغتیاب أہل الفساد والریب۔