كِتَابُ البِرِّ والصِّلَةِ وَالآدَابِ باب صِلَةِ الرِّحِمِ وَتَحْرِيمِ قَطِيعَتِهَا صحيح حَديثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رضيَ الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «خَلَقَ الله الخَلْقَ. فَلَمَّا فَرَغَ منْهُ، قَامَتِ الرَّحِمُ، فَأَخَذَتْ بِحَقُوِ الرَّحْمانِ، فَقَالَ لَهُ: مَهْ. قَالَتْ: هاذَا مَقَامُ العَائِذِ بِكَ مِنَ القَطِيعَةِ. قَالَ: أَلارَ تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ، وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ؟ قَالَتْ: بَلعى يَا رَبِّ! قَالَ: فَذَاكِ». قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اقْرَؤُوا إِن شِئْتُمْ {فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ}
کتاب: نیکی اور سلوک اور ادب کے مسائل
باب: صلہ رحمی کا بیان اور قطع رحمی کی حرمت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کی ٗ جب وہ اس کی پیدائش سے فارغ ہوا تو ’’رحم‘‘ نے کھڑے ہو کر رحم کرنے والے اللہ کے دامن میں پناہ لی۔ اللہ نے پوچھا کیا بات ہے؟ رحم نے عرض کی: میں قطع رحمی (رشتہ داری ختم کرنے) سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا کیا تجھے یہ پسند نہیں کہ جو تجھ کو جوڑے میں بھی اسے جوڑوں اور جو تجھے توڑے میں بھی اسے توڑوں۔ رحم نے عرض کیا ٗ ہاں اے میرے رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا ٗ پھر ایسا ہی ہوگا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تمہارا(اطمینان کے لیے) جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو ’’اگر تم کنارہ کش رہو تو آیا تم کو یہ احتمال بھی ہے کہ تم لوگ دین میں فساد مچا دو گے اور آپس میں قطع تعلق کر لو گے۔‘‘
تخریج : أخرجہ البخاري في: 65 کتاب التفسیر: 47 سورۃ محمد صلي الله عليه وسلم : ۱ باب وتقطعوا ارحامکم۔