اللولؤ والمرجان - حدیث 1653

كِتَابُ البِرِّ والصِّلَةِ وَالآدَابِ باب بِرِّ الوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ صحيح حَديثُ عَبْدِ الله بْنِ عَمْرٍو رضي الله عنهما، قَالَ: جاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنَهُ فِي الجِهَادِ. فَقَالَ: «أَحَيُّ وَالِدَاكَ؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ»

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1653

کتاب: نیکی اور سلوک اور ادب کے مسائل باب: والدین کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کا بیان اور وہ اس کے زیادہ حق دار ہیں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپﷺ سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی۔ آپ نے ان سے دریافت فرمایا: کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں! آپﷺ نے فرمایا کہ پھر انہی میں جہاد کرو۔ (یعنی ان کو خوش رکھنے کی کوشش کرو)
تشریح : اسی سے امام بخاری رحمہ اللہ نے باب کا مطلب نکالا ہے کہ ماں باپ کی رضا مندی جہاد میں جانے کے واسطے ضروری ہے۔ کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی خدمت جہاد پر مقدم رکھی۔ (راز)
تخریج : أخرجہ البخاري في: 56 کتاب الجہاد: 138 باب الجہاد بإذن الأَبَوَیْنِ۔ اسی سے امام بخاری رحمہ اللہ نے باب کا مطلب نکالا ہے کہ ماں باپ کی رضا مندی جہاد میں جانے کے واسطے ضروری ہے۔ کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی خدمت جہاد پر مقدم رکھی۔ (راز)