كِتَابُ البِرِّ والصِّلَةِ وَالآدَابِ باب بِرِّ الوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ صحيح حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ الله! مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: «أُمُّكَ» قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «أُمُّكَ» قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «أُمُّكَ» قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ «ثُمَّ أَبُوكَ»
کتاب: نیکی اور سلوک اور ادب کے مسائل
باب: والدین کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کا بیان اور وہ اس کے زیادہ حق دار ہیں
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ!میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تمہارا باپ ہے۔
تخریج : أخرجہ البخاري في: 78 کتاب الأدب: 2 باب من أحق الناس بحسن الصحبۃ۔