كتاب فضائل الصحابة باب من فضائل غفار وأسلم وجهينة وأشجع ومزينة وتميم ودوس وطيء صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَدِمَ طُفَيْلُ بْنُ عَمْرِو الدَّوْسِيُّ، وَأَصْحَابُهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رسُولَ اللهِ إِنَّ دَوْسًا عَصَتْ، وَأَبَتْ فَادْعُ اللهَ عَلَيْهَا فَقِيلَ: هَلَكَتْ دَوْسٌ قَالَ: اللهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ
کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے فضائل
باب: غفار، اسلم، جہینہ، اشجع، مزینہ، تمیم، دوس اور طیئی قبائل کے فضائل
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ پنے ساتھیوںکے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! قبیلہ دوس کے لوگ سرکشی پر اتر آئے ہیں اور اللہ کا کلام سننے سے انکار کرتے ہیں۔ آپﷺ ان پر بددعا کیجئے۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب دوس کے لوگ برباد ہو جائیں گے۔ لیکن آپﷺ نے فرمایا: اے اللہ! دوس کے لوگوں کو ہدایت دے اور انہیں (دائرۂ اسلام میں) کھینچ لا۔
تشریح :
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی قبیلہ دوس کے تھے۔ لوگوں نے بد دعا کی درخواست کی تھی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ہدایت کی دعا فرمائی جو قبول ہوئی اور بعد میں اس قبیلہ کے لوگ خوشی خوشی مسلمان ہو گئے۔ (راز)
تخریج :
أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 100 باب الدعاء للمشركين بالهدي ليتألفهم
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی قبیلہ دوس کے تھے۔ لوگوں نے بد دعا کی درخواست کی تھی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ہدایت کی دعا فرمائی جو قبول ہوئی اور بعد میں اس قبیلہ کے لوگ خوشی خوشی مسلمان ہو گئے۔ (راز)