كتاب فضائل الصحابة باب من فضائل غفار وأسلم وجهينة وأشجع ومزينة وتميم ودوس وطيء صحيح حديث أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا بَايَعَكَ سُرَّاق الْحَجِيجِ، مِنْ أَسْلَمَ وَغِفَارَ وَمُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَبَنِي عَامِرٍ وَأَسَدٍ وَغَطَفَانَ، خَابُوا وَخَسِرُوا قَالَ: نَعَمْ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بَيَدِهِ إِنَّهُمْ لَخَيْرٌ مِنْهُمْ
کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے فضائل
باب: غفار، اسلم، جہینہ، اشجع، مزینہ، تمیم، دوس اور طیئی قبائل کے فضائل
حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ سے ان لوگوں نے بیعت کی ہے کہ جو حاجیوں کا سامان چرایا کرتے تھے، یعنی اسلم ، غفار ، مزینہ اور جہینہ کے لوگ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بتلاؤ اسلم ٗ غفار ٗ مزینہ اور جہینہ ۔ یہ چاروں قبیلے بنی تمیم ٗ بنی عامر ، اسد اور غطفان سے بہتر نہیں ہیں؟ کیا یہ (مؤخرالذکر) خراب اور برباد نہیں ہوئے؟ اقرع نے کہا: ہاں ٗ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یہ ان سے بہتر ہیں۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 6 باب ذكر أسلم وغفار ومزينة وجهينة