اللولؤ والمرجان - حدیث 1618

كتاب فضائل الصحابة باب فضائل حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ صحيح حديث عَائِشَةَ عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: لاَ تَسُبُّهُ، فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1618

کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے فضائل باب: حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے کمالات عروہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے یہاں میں حسان رضی اللہ عنہ کو برا کہنے لگا تو انہوں نے فرمایا : انہیں برا نہ کہو ٗ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مدافعت کیا کرتے تھے۔
تشریح : راوي حدیث:… حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو الولید یا ابو الحسام تھی۔ انصاری تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکا بیان ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو قریش نے آپ کی ہجو کی تو حسان نے اشعار کے ذریعے آپ کا دفاع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے حسان کفار کی ہجو کرو یہ انہیں تیروں سے زیادہ زخمی کرتی ہے اور جبریل تمہاری مدد کے لیے اترتا ہے۔ ایک سو بیس سال کی عمر پائی۔ ساٹھ سال جاہلیت اور ساٹھ سال اسلام میں گزارے اور ۴۰ھ کو وفات پائی۔ بعض نے آپ کا سن وفات ۵۰ ہجری بیان کیا ہے۔٭حضرت حسان رضی اللہ عنہ ایک موقع پر بہک گئے تھے۔ یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاپر اتہام لگانے والوں کے ہم نوا ہو گئے تھے۔ بعد میں یہ تائب ہو گئے مگر کچھ دلوں میں یہ واقعہ یاد رہا۔ لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے خود ان کی مدح کی اور ان کو اچھے لفظوں سے یاد کیا۔ (راز)
تخریج : أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 16 باب من أحب أن لا يسب نسبه راوي حدیث:… حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو الولید یا ابو الحسام تھی۔ انصاری تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکا بیان ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو قریش نے آپ کی ہجو کی تو حسان نے اشعار کے ذریعے آپ کا دفاع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے حسان کفار کی ہجو کرو یہ انہیں تیروں سے زیادہ زخمی کرتی ہے اور جبریل تمہاری مدد کے لیے اترتا ہے۔ ایک سو بیس سال کی عمر پائی۔ ساٹھ سال جاہلیت اور ساٹھ سال اسلام میں گزارے اور ۴۰ھ کو وفات پائی۔ بعض نے آپ کا سن وفات ۵۰ ہجری بیان کیا ہے۔٭حضرت حسان رضی اللہ عنہ ایک موقع پر بہک گئے تھے۔ یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاپر اتہام لگانے والوں کے ہم نوا ہو گئے تھے۔ بعد میں یہ تائب ہو گئے مگر کچھ دلوں میں یہ واقعہ یاد رہا۔ لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے خود ان کی مدح کی اور ان کو اچھے لفظوں سے یاد کیا۔ (راز)