كتاب فضائل الصحابة باب من فضائل جرير بن عبد الله رضی اللہ عنہ صحيح حديث جَرِيرٍ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلاَ تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمَ، يُسَمَّى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةَ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمَائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ، وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ قَالَ: وَكُنْتُ لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَضَرَبَ فِي صَدْرِي، حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: اللهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا، فَكَسَرَهَا وَحَرَّقَهَا ثُمَّ بَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُهُ فَقَالَ رَسُولُ جَرِيرٍ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتهَا كَأَنَّها جَمَلٌ أَجْوَفُ، أَوْ أَجْرَبُ قَالَ: فَبَارَكَ فِي خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا، خَمْسَ مَرَّاتٍ
کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے فضائل
باب: حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے فضائل
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذوالخلصہ کو (برباد کر کے) مجھے راحت کیوں نہیں دے دیتے۔ یہ ذوالخلصہ قبیلہ خثعم کا ایک بت خانہ تھا اور اسے ’’کعبۃالیمانیہ‘‘ کہتے تھے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں قبیلہ احمس کے ایک سو پچاس سواروں کو لے کر چلا۔ یہ سب حضرات بڑے اچھے گھوڑسوار تھے لیکن میں گھوڑے کی سواری اچھی طرح نہیں کر پاتا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر (اپنے ہاتھ سے) مارا، میں نے انگشت ہائے مبارک کا نشان اپنے سینے پر دیکھا۔ فرمایا: اے اللہ! گھوڑے کی پشت پر اسے ثبات عطا فرمانا، اور اسے دوسروں کو ہدایت کی راہ دکھانے والا اور خود ہدایت پایا ہوا بنانا، اس کے بعد جریر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے، اور ذوالخلصہ کی عمارت کو گرا کر اس میں آگ لگا دی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر بھجوائی۔ جریر رضی اللہ عنہ کے قاصد (ابوارطاۃ حصین بن ربیعہ) نے خدمت نبوی میں حاضر ہو کر عرض کیا، اس ذات کی قسم! جس نے آپﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ میں اس وقت تک آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا، جب تک ہم نے ذوالخلصہ کو ایک خالی پیٹ والے اونٹ کی طرح نہیں بنا دیا، یا (انہوں نے کہا) خارش والے اونٹ کی طرح (مراد و یرانی سے ہے)۔ جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے سواروں اور قبیلہ کے تمام لوگوں کے لئے پانچ مرتبہ برکتوں کی دعا فرمائی۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 154 باب حرق الدور والنخيل