كتاب فضائل الصحابة باب من فضائل عبد الله بن مسعود وأمه رضی اللہ عنہ صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ خَطَبَ، فَقَالَ: وَاللهِ لَقَدْ أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً، وَاللهِ لَقَدْ عَلِمَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي مِنْ أَعْلَمِهِمْ بِكِتَابِ اللهِ، وَمَا أَنَا بِخَيْرِهِم قَالَ شَقِيقٌ (رَاوِي الْحَدِيثِ) : فَجَلَسْتُ فِي الْحِلَقِ أَسْمعُ مَا يَقُولُونَ، فَمَا سَمِعْتُ رَدًّا يَقُولُ غَيْرَ ذَلِكَ
کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے فضائل
باب: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ کی فضیلت
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا کہ اللہ کی قسم میں نے ستر سے کچھ زائد سورتیں خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن کر حاصل کی ہیں۔ اللہ کی قسم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ میں ان سب سے زیادہ قرآن مجید کا جاننے والا ہوں حالانکہ میں ان سے بہتر نہیں ہوں۔ شقیق(راوی حدیث) نے بیان کیا کہ پھر میں مجلس میں بیٹھا تاکہ صحابہ کی رائے سن سکوں کہ وہ کیا کہتے ہیں لیکن میں نے کسی سے اس بات کی تردید نہیں سنی۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائل القرآن: 8 باب القراء من أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ