اللولؤ والمرجان - حدیث 1595

كتاب فضائل الصحابة باب من فضائل زينب أم المؤمنين رضی اللہ عنہ صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّنَا أَسْرَعُ بِكَ لُحُوقًا قَالَ: أَطْوَلُكُنَّ يَدًا فَأَخَذُوا قَصَبَةً يَذْرَعُونَهَا فَكَانَتْ سَوْدَةُ أَطْوَلَهُنَّ يَدًا فَعَلِمْنَا بَعْدُ، أَنَّمَا كَانَتْ طُولَ يَدِهَا الصَّدَّقَةُ، وَكَانَتْ أَسْرَعَنَا لُحُوقًا بِهِ، وَكَانَتْ تُحِبُ الصَّدَقَةَ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1595

کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے فضائل باب: ام المومنین حضرت زینب رضی اللہ عنہ کی خوبیاں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے پہلے ہم میں آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون جا کر ملے گی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا ہو گا۔‘‘ اب ہم نے لکڑی سے ناپنا شروع کر دیا تو سودہ رضی اللہ عنہ سب سے لمبے ہاتھ والی نکلیں۔ ہم نے بعد میں (زینب رضی اللہ عنہ کی وفات پر) سمجھا کہ لمبے ہاتھ سے ہونے والی سے آپ کی مراد صدقہ زیادہ کرنے والی سے تھی۔ اور وہ ہم سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر ملیں، صدقہ کرنا آپ کو بہت محبوب تھا۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 11 باب أي الصدقة أفضل