اللولؤ والمرجان - حدیث 1585

كتاب فضائل الصحابة باب في فضل عائشة رضی اللہ عنہ صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُ لاَ يَمُوتُ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ فَسَمِعْت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ، يَقُولُ: (مَعَ الَّذِين أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ) الآيَةَ فَظَننْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1585

کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے فضائل باب: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے فضائل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ میں سنتی آئی تھی کہ ہر نبی کو وفات سے پہلے دنیا اور آخرت کے رہنے میں اختیار دیا جاتا ہے، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سنا، آپ اپنے مرض الموت میں فرما رہے تھے، آپ کی آواز بھاری ہو چکی تھی۔ آپ آیت (مع الذین انعم اللہ علیھم الخ) کی تلاوت فرما رہے تھے (یعنی ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا ہے) مجھے یقین ہو گیا کہ آپ کو بھی اختیار دے دیا گیا ہے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 83 باب مرض النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ووفاته