اللولؤ والمرجان - حدیث 1570

كتاب فضائل الصحابة باب فضائل زيد بن حارثة وأسامة بن زيد رضی اللہ عنہ صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا كُنَّا نَدْعُوهُ إِلاَّ زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآن (ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ)

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1570

کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے فضائل باب: حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے فضائل سیّدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کیے ہوئے غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ہم ہمیشہ زید بن محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ قرآن کریم میں آیت نازل ہوئی کہ ’’انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کرو کہ یہی اللہ کے نزدیک سچی اور ٹھیک بات ہے‘‘۔
تشریح : اسلامی قانون میں لے پاک لڑکے لڑکی کا کوئی وزن نہیں ہے۔ اس کو اولاد حقیقی جیسے حقوق نہیں ملیں گے۔ (راز)
تخریج : أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 33 سورة الأحزاب: 2 باب ادعوهم لآبائهم اسلامی قانون میں لے پاک لڑکے لڑکی کا کوئی وزن نہیں ہے۔ اس کو اولاد حقیقی جیسے حقوق نہیں ملیں گے۔ (راز)