كتاب فضائل الصحابة باب فضائل الحسن والحسين رضی اللہ عنہ صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةِ النَّهَارِ، لاَ يُكَلِّمُنِي وَلاَ أُكَلِّمُهُ، حَتَّى أَتَى سُوقَ بَنِي قَيْنُقَاعَ، فَجَلَسَ بِفَناءِ بَيْتِ فَاطِمَةَ، فَقَالَ: أَثَمَّ لُكَعُ أَثَمَّ لُكَعُ فَحَبَسَتْهُ شَيْئًا، فَظَنَنْتُ أَنَّهَا تلْبِسُهُ سِخَابًا، أَوْ تُغَسِّلُهُ فَجاءَ يَشْتَدُّ حَتَّى عَانَقَهُ وَقَبَّلَهُ، وَقَالَ: اللهُمَّ أَحْبِبْهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّه
کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے فضائل
باب: حضرت حسن رضی اللہ عنہ و حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل
حضرت ابوہریرہ دوسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے ایک حصے میں تشریف لے چلے۔ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کوئی بات کی اور نہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اسی طرح آپ بنی قینقاع کے بازار میں آئے پھر (واپس ہوئے اور) فاطمہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے آنگن میں بیٹھ گئے اور فرمایا: وہ بچہ کہاں ہے، وہ بچہ کہاں ہے؟ فاطمہ رضی اللہ عنہ (کسی مشغولیت کی وجہ سے فوراً) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہ ہو سکیں۔ میں نے خیال کیا، ممکن ہے حسن رضی اللہ عنہ کو کرتا وغیرہ پہنا رہی ہوں یا نہلا رہی ہوں۔ تھوڑی ہی دیر بعد حسن رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے، آپ نے ان کو سینے سے لگا لیا اور بوسہ لیا۔ پھر فرمایا: اے اللہ! اسے محبوب رکھ اور اس شخص کو بھی محبوب رکھ جو اس سے محبت رکھے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 49 باب ما ذكر في الأسواق