اللولؤ والمرجان - حدیث 1565

كتاب فضائل الصحابة باب فضائل طلحة والزبير رضی اللہ عنہ صحيح حديث الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: كُنْتُ، يَوْمَ الأَحْزَابِ، جُعِلْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، فِي النِّسَاءِ فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بالزُّبَيْرِ عَلَى فَرسِهِ، يَخْتَلِفُ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَلَمَّا رَجَعْتُ قُلْتُ: يَا أَبَتِ رَأَيْتُكَ تَخْتلِفُ، قَالَ: أَوَ هَلْ رَأيْتَنِي يَا بُنيّ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ يَأْتِ بَنِي قُرَيْظَةَ فَيَأتِينِي بِخَبَرِهِمْ فَانْطَلَقْتُ، فَلَمَّا رجَعْتُ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ، فَقَالَ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1565

کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے فضائل باب: حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی خوبیوں کا بیان حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ احزاب کے موقع پر مجھے اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کو عورتوں میں چھوڑ دیا گیا تھا( کیونکہ یہ دونوں حضرات بچے تھے) میں نے اچانک دیکھا کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ (آپ کے والد) اپنے گھوڑے پر سوار بنی قریظہ(یہودیوں کے ایک قبیلہ کی) طرف آجارہے ہیں دویا تین مرتبہ ایسا ہوا۔پھر جب وہاں سے واپس آیا تو میں نے عرض کیا، ابا جان! میںنے آپ کو کئی مرتبہ آتے جاتے دیکھا۔انہوں نے کہا، بیٹے! کیاواقعی تم نے بھی دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا کہ کون ہے جو بنو قریظہ کی طرف جاکر ان کی (نقل و حرکت کے متعلق) اطلاع میرے پاس لاسکے، اس پر میں وہاں گیا اور جب میں(خبر لے کر ) واپس آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (فرط مسرت میں) اپنے والدین کا ایک ساتھ ذکر کر کے فرمایا کہ ’’ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔‘‘
تخریج : أخرجه البخاري في: 62 كتاب فضائل أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 13 باب مناقب الزبير بن العوام