كتاب السلام باب الطاعون والطيرة والكهانة وغيرها صحيح حديث أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الطَّاعُونُ رِجْسٌ، أُرْسِلَ عَلَى ظَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، أَوْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلاَ تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ (وَفِي رِوَايَةٍ) لاَ يُخْرِجُكُمْ إِلاَّ فِرَارًا مِنْهُ
کتاب: سلام کے مسائل
باب: طاعون، بری فال اور کہانت کا بیان
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : طاعون ایک عذاب ہے جو پہلے بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجا گیا تھا یا آپ نے یہ فرمایا کہ ایک گزشتہ امت پر بھیجا گیا تھا۔ اس لئے جب کسی جگہ کے متعلق تم سنو (کہ وہاں طاعون پھیلا ہوا ہے) تو وہاں نہ جاؤ لیکن اگر کسی ایسی جگہ یہ وبا پھیل جائے جہاں تم پہلے سے موجود ہو تو وہاں سے مت نکلو۔ اور ایک روایت میں ہے یعنی بھاگنے کے سوا اور کوئی غرض نہ ہو تو مت نکلو۔
تشریح :
معلوم ہوا کہ تجارت، جہاد یا دوسری اغراض (سوائے فرارکے) کے لیے طاعون زدہ مقامات سے نکلنا جائز ہے۔ حضرت عمر شام کو جا رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ وہاں طاعون ہے، واپس لوٹ آئے۔ لوگوں نے کہا کہ آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگتے ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیاکہ ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر ہی کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ (راز)
تخریج :
أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 54 باب حدثنا أبو اليمان
معلوم ہوا کہ تجارت، جہاد یا دوسری اغراض (سوائے فرارکے) کے لیے طاعون زدہ مقامات سے نکلنا جائز ہے۔ حضرت عمر شام کو جا رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ وہاں طاعون ہے، واپس لوٹ آئے۔ لوگوں نے کہا کہ آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگتے ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیاکہ ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر ہی کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ (راز)