اللولؤ والمرجان - حدیث 1414
كتاب السلام باب استحباب رقية المريض صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ إِذَا أَتَى مَرِيضًا، أَوْ أُتِيَ بِهِ قَالَ: أَذْهِبِ الْبَاسَ، رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي، لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا
ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1414
کتاب: سلام کے مسائل
باب: بیمار پر دم کرنا مستحب ہے
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کے پاس تشریف لے جاتے یا کوئی مریض آپ کے پاس لایا جاتا تو آپ یہ دعا فرماتے۔ اے پروردگار لوگوں کے!بیماری دور کردے، اے انسانوں کے پالنے والے!شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیری شفا کے سوا اور کوئی شفا نہیں، ایسی شفا دے جس میں مرض بالکل باقی نہ رہے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 75 كتاب المرضى: 20 باب دعاء العائد للمريض