اللولؤ والمرجان - حدیث 1400

كتاب السلام باب النهي عن ابتداء أهل الكتاب بالسلام وكيف يرد عليهم صحيح حديث عَائِشَةَ رضي الله عنها، قَالَتْ: دَخَلَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ فَفَهِمْتُهَا، فَقُلْتُ: عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَهْلاً، يَا عَائِشَةُ فَإِنَّ اللهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوَ لَمْ تَسْمَعْ مَا قَالوا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَقَدْ قُلْتُ: وَعَلَيْكُمْ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1400

کتاب: سلام کے مسائل باب: اہل کتاب کو خود سلام نہ کیا جائے، اگر وہ کریں تو کس طرح جواب دیا جائے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ ’’السام علیک‘‘ (تمہیں موت آئے) میں ان کی بات سمجھ گئی اور میں نے جواب دیا ’’علیکم السام واللعنۃ‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ صبر سے کام لے کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا تھا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان کا جواب دے دیا تھا کہ ’’وعلیکم‘‘ (اور تمہیں بھی)۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 22 باب كيف يُرَدّ على أهل الذمة السلام