اللولؤ والمرجان - حدیث 1384

كتاب الآداب باب استحباب تغيير الاسم القبيح إِلى حسن وتغيير اسم برة إِلى زينب وجويرية ونحوها صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ زَيْنَبَ كَانَ اسْمُهَا بَرَّةً، فَقِيلَ تُزَكِّي نَفْسَهَا فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، زَيْنَبَ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1384

کتاب: آداب کا بیان باب: برے نام کو اچھے نام سے بدلنا مستحب ہے اور برہ کو زینب اور جویریہ وغیرہ سے بدلنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ام المومنین زینب رضی اللہ عنہ کا نام ’’برہ‘‘ تھا، کہا جانے لگا کہ وہ اپنی پاکی ظاہر کرتی ہیں۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھا۔
تشریح : لفظ ’’برہ‘‘ بہت نیکوکار کے معنی میں ہے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں آیا تھا۔ کیونکہ اس میں خود پسندی کی جھلک آتی تھی۔ اس لیے یہ نام بدل دیا گیا۔ (راز)
تخریج : أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 108 باب تحويل الاسم إلى اسم أحسن منه لفظ ’’برہ‘‘ بہت نیکوکار کے معنی میں ہے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں آیا تھا۔ کیونکہ اس میں خود پسندی کی جھلک آتی تھی۔ اس لیے یہ نام بدل دیا گیا۔ (راز)