اللولؤ والمرجان - حدیث 1382

كتاب الآداب باب النهي عن التكني بأبي القاسم وبيان ما يستحب من الأسماء صحيح حديث جَابِرٍ رضي الله عنه، قَالَ: وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلاَمٌ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ، فَقُلْنَا: لاَ نَكْنِيكَ أَبَا الْقَاسِمِ، وَلاَ كَرَامَةَ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: سَمِّ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمنِ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1382

کتاب: آداب کا بیان باب: ابو القاسم کنیت رکھنے کی ممانعت اور اچھے ناموں کا بیان حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم میں سے ایک صاحب کے یہاں بیٹا پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام ’’قاسم‘‘ رکھا۔ ہم نے ان سے کہا کہ ہم تم کو ابوالقاسم کہہ کر نہیں پکاریں گے (کیونکہ ابو القاسم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت تھی) اور نہ ہم تمہاری عزت کے لئے ایسا کریں گے۔ ان صاحب نے اس کی خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمن رکھ لے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 105 باب أحب الأسماء إلى الله عز وجل