كتاب الآداب باب النهي عن التكني بأبي القاسم وبيان ما يستحب من الأسماء صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ: وُلِدَ لَرَجُلٍ مِنَّا غُلاَمٌ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ فَقَالَتِ الأَنْصَارُ: لاَ نَكْنِيكَ أَبَا الْقَاسِمِ، وَلاَ نُنْعِمُكَ عَيْنًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ، فَسَمَّيْتُهُ الْقَاسِمَ، فَقَالَتِ الأَنْصَارُ: لاَ نَكْنِيكَ أَبَا الْقَاسِمِ، وَلاَ نُنْعِمُكَ عَيْنًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَحْسَنَتِ الأَنْصَارُ، سَمُّوا بِاسْمِي، وَلاَ تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي، فَإِنَّمَا أَنا قَاسِمٌ
کتاب: آداب کا بیان
باب: ابو القاسم کنیت رکھنے کی ممانعت اور اچھے ناموں کا بیان
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمارے قبیلہ میں ایک شخص کے یہاں بچہ پیدا ہوا، تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا، انصار کہنے لگے کہ ہم تمہیں ابوالقاسم کہہ کر کبھی نہیں پکاریں گے اور ہم تمہاری آنکھ ٹھنڈی نہیں کریں گے۔ یہ سن کر وہ انصاری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ! میرے گھر ایک بچہ پیدا ہوا ہے۔ میں نے اس کا نام قاسم رکھا ہے تو انصار کہتے ہیں ہم تیری کنیت ابوالقاسم نہیں پکاریں گے اور تیری آنکھ ٹھنڈی نہیں کریں گے۔ آپﷺ نے فرمایا: انصار نے ٹھیک کہا ہے میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت مت رکھو، کیونکہ قاسم میں ہوں۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 57 كتاب فرض الخمس: 7 باب قول الله تعالى (فإن لله خمسه)