اللولؤ والمرجان - حدیث 1379

كتاب اللباس والزينة باب النهي عن التزوير في اللباس وغيره والتشبع بما لم يعط صحيح حديث أَسْمَاءَ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي ضَرَّةً، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنْ تَشَبَّعْتُ مِنْ زَوْجِي غَيْرَ الَّذِي يُعْطِينِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلاَبِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1379

کتاب: لباس اور زینت کے بیان میں باب: فریب کا لباس پہننے اور جو نہ ہو اس کو کہنے کی ممانعت کا بیان حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ ایک خاتون نے عرض کیا یا رسول اللہ!میری سوکن ہے، اگر اپنے شوہر کی طرف سے ان چیزوں کے حاصل ہونے کی بھی (فرضی) داستان اسے سناؤں جو حقیقت میں میرا شوہر مجھے نہیں دیتا تو کیا اس میں کوئی حرج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: جو چیز حاصل نہ ہو اس پر فخر کرنے والا اس شخص جیسا ہے جو فریب کا جوڑا یعنی (دوسروں کے کپڑے) مانگ کر پہنے اور لوگوں میں یہ ظاہر کرے کہ یہ کپڑے میرے ہیں۔
تشریح : امام زمخشری نے الفائق میں متشبع کے دو معانی لکھے ہیں: (۱) کھانے میں حد سے بڑھ جانے والا سیر ہونے کے باوجود کھاتا رہتا ہے حتیٰ کہ بھر جاتا ہے اور پسلیاں ٹوٹنے لگ جاتی ہیں۔ (۲) سیر شدہ کی مشابہت اختیار کرنے والا حالانکہ سیر ہونے کے لیے پاس کچھ بھی نہیں۔ امام قسطلانی نے سفاقسی سے نقل کیا ہے کہ اس سے مراد وہ آدمی ہے جو بطور امانت یا عاریتاً لے کر لباس پہنتا ہے تاکہ لوگ یہ خیال کریں کہ یہ اس کا اپنا لباس ہے چونکہ یہ لباس اس کی ملکیت نہیں ہوتا اس لیے رسوائی اٹھاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو اس لیے نفرت دلائی کیونکہ اس میں خاوند اور سوکن کے درمیان فساد اور دشمنی کا خطرہ موجود ہے۔ (مرتب)
تخریج : أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 106 باب المتشبع بما لم ينل وما ينهى من افتخار الضرة امام زمخشری نے الفائق میں متشبع کے دو معانی لکھے ہیں: (۱) کھانے میں حد سے بڑھ جانے والا سیر ہونے کے باوجود کھاتا رہتا ہے حتیٰ کہ بھر جاتا ہے اور پسلیاں ٹوٹنے لگ جاتی ہیں۔ (۲) سیر شدہ کی مشابہت اختیار کرنے والا حالانکہ سیر ہونے کے لیے پاس کچھ بھی نہیں۔ امام قسطلانی نے سفاقسی سے نقل کیا ہے کہ اس سے مراد وہ آدمی ہے جو بطور امانت یا عاریتاً لے کر لباس پہنتا ہے تاکہ لوگ یہ خیال کریں کہ یہ اس کا اپنا لباس ہے چونکہ یہ لباس اس کی ملکیت نہیں ہوتا اس لیے رسوائی اٹھاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو اس لیے نفرت دلائی کیونکہ اس میں خاوند اور سوکن کے درمیان فساد اور دشمنی کا خطرہ موجود ہے۔ (مرتب)