اللولؤ والمرجان - حدیث 1378

كتاب اللباس والزينة باب حريم فعل الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة والنامصة والمتنمصة والمتفلجات والمغيرات خلق الله صحيح حديث مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ حُمَيْدٍ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، عَامَ حَجَّ، عَلَى الْمِنْبَرِ، فَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ، وَكَانَتْ فِي يَدَيْ حَرَسِيٍّ فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَنْهى عَنْ مِثْلِ هذِهِ، وَيَقُولُ: إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَهَا نِسَاؤُهُمْ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1378

کتاب: لباس اور زینت کے بیان میں باب: بالوں میں جوڑ لگانا اور لگوانا، گودنا اور گودوانا اور چہرے کی روئیں نکالنا اور نکلوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بدلنا حرام ہے حمید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے سنا جس سال جب وہ حج کے لیے گئے ہوئے تھے تو منبر نبوی پر کھڑے ہو کر انہوں نے پیشانی کے بالوں کا ایک گچھا لیا جو ان کے چوکیدار کے ہاتھ میں تھا اور فرمایا اے مدینہ والو! تمہارے علماء کدھر گئے یعنی کیا تم کو منع کرنے والے علماء ختم ہو گئے؟ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ نے اس طرح (بال جوڑنے کی) ممانعت فرمائی تھی اور فرمایا تھا کہ بنی اسرائیل پر بربادی اس وقت آئی جب (شریعت کے خلاف) ان کی عورتوں نے اس طرح بال سنوارنے شروع کر دیئے تھے۔
تشریح : دوسروں کے بال اپنے سر میں جوڑنا مراد ہے۔ دوسری حدیث میں ایسی عورتوں پر لعنت آئی ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ خطبہ ۶۱ ھ سے متعلق ہے۔ جب آپ اپنی خلافت میں آخری بار حج کرنے آئے تھے۔ اس وقت اکثر علماء صحابہ وفات پا چکے تھے۔ (راز)
تخریج : أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 54 باب حدثنا أبو اليمان دوسروں کے بال اپنے سر میں جوڑنا مراد ہے۔ دوسری حدیث میں ایسی عورتوں پر لعنت آئی ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ خطبہ ۶۱ ھ سے متعلق ہے۔ جب آپ اپنی خلافت میں آخری بار حج کرنے آئے تھے۔ اس وقت اکثر علماء صحابہ وفات پا چکے تھے۔ (راز)