اللولؤ والمرجان - حدیث 1375

كتاب اللباس والزينة باب حريم فعل الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة والنامصة والمتنمصة والمتفلجات والمغيرات خلق الله صحيح حديث أَسْمَاءَ، قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ ابْنَتِي أَصَابَتْهَا الْحَصْبَةُ فَامَّرَقَ شَعْرُهَا، وَإِنِّي زَوَّجْتُهَا؛ أَفَأَصِلُ فِيهِ فَقَالَ: لَعَنَ اللهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصولَةَ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1375

کتاب: لباس اور زینت کے بیان میں باب: بالوں میں جوڑ لگانا اور لگوانا، گودنا اور گودوانا اور چہرے کی روئیں نکالنا اور نکلوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بدلنا حرام ہے حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یارسول اللہ!میری لڑکی چیچک نکلی ، اور اس سے اس کے بال جھڑ گئے۔ میں اس کی شادی بھی کر چکی ہوں تو کیا اس کے سر میں مصنوعی بال لگا دوں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مصنوعی بال لگانے والی اور جس کے لگایا جائے، دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 78 كتاب اللباس: 85 باب الموصولة