اللولؤ والمرجان - حدیث 1372

كتاب اللباس والزينة باب جواز وشم الحيوان غير الآدمي في غير الوجه وندبه في نعم الزكاة والجزية صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ لِي: يَا أَنَسُ انْظُرْ هذَا الْغُلاَمَ، فَلاَ يُصِيبَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُحَنِّكُهُ فَغَدَوْتُ بِهِ فَإِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ حُرَيْثِيَّةٌ، وَهُوَ يَسِمُ الظَّهْرَ الَّذِي قَدِمَ عَلَيْهِ فِي الْفَتْحِ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1372

کتاب: لباس اور زینت کے بیان میں باب: سوائے آدمی کے ہر جانور کو چہرے کے علاوہ داغ دینا درست ہے نیز زکوٰۃ اور جزیہ کے جانور داغنا مستحب ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ انس اس بچہ کو دیکھتے رہو، کوئی چیز اس کے پیٹ میں نہ جائے اور جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لاؤ تا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنا جھوٹا اس کے منہ میں ڈالیں۔ چنانچہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک باغ میں تھے اور آپ کے جسم پر قبیلہ بنی حریث کی بنی ہوئی چادر (خمیصہ حریثیہ) تھی اور آپ اس سواری پر نشان لگا رہے تھے جس پر آپ فتح مکہ کے موقع پر سوار تھے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 22 باب الخميصة السوداء