اللولؤ والمرجان - حدیث 1371

كتاب اللباس والزينة باب كراهة قلادة الوتر في رقبة البعير صحيح حديث أَبِي بَشِيرٍ الأَنْصَارِيِّ رضي الله عنه، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، وَالنَّاسُ فِي مَبِيتِهِمْ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَسُولاً أَنْ لاَ يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلاَدَةٌ مِنْ وَتَرٍ أَوْ قِلاَدَةٌ إِلاَّ قُطِعَتْ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1371

کتاب: لباس اور زینت کے بیان میں باب: دانت کا ہار اونٹ کے گلے میں ڈالنے کی ممانعت حضرت ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ ایک سفر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ لوگ اپنی خواب گاہوں میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک قاصد (زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ) یہ اعلان کرنے کے لئے بھیجا کہ جس شخص کے اونٹ کی گردن میں تانت کا گنڈا ہو یا یوں فرمایا کہ جو گنڈا (ہار) ہو وہ اسے کاٹ ڈالے۔
تشریح : راوي حدیث:… حضرت ابو بشیر رضی اللہ عنہ صحابی ہیں ان کے مشہور شاگرد عباد بن تمیم اور ضمرہ بن سعید ہیں۔امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں (جیسا کہ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں نقل کیا ہے) وتر سے مراد تین قول ہیں۔ (۱) وہ لوگ اپنے اونٹوں کی گردنوں میں ریشم کی رسیاں لٹکاتے تھے تاکہ انہیں نظر بد نہ لگے آپ نے ان کے کاٹنے کا حکم دیا کہ یہ رسیاں وغیرہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو رد نہیں کر سکتیں۔ (۲) ان رسیوں کے لٹکانے سے اس لیے روکا گیا کیونکہ دوڑ کے وقت جانورکا گلا بند ہو جاتا تھا اور وہ تکلیف محسوس کرتا تھا۔ اسی قول کو ابو عبید نے ترجیح دی ہے اور کہا ہے کہ اس لیے منع کیا کیونکہ جانور اس سے تکلیف اٹھاتا ہے اور اس کا سانس لینا اور چرنا مشکل ہو جاتا ہے بسا اوقات درخت سے لٹک جاتا ہے اور گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ (۳) وہ لوگ ان رسیوں میں گھنیٹاں لٹکاتے تھے۔ اسی قول کو امام خطابی نے بیان کیا ہے اور امام بخاری کی تبویب بھی اسی طرف دلاتی کرتی ہے۔ (مرتب)
تخریج : أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 139 باب ما قيل في الجرس ونحوه في أعناق الإبل راوي حدیث:… حضرت ابو بشیر رضی اللہ عنہ صحابی ہیں ان کے مشہور شاگرد عباد بن تمیم اور ضمرہ بن سعید ہیں۔امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں (جیسا کہ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں نقل کیا ہے) وتر سے مراد تین قول ہیں۔ (۱) وہ لوگ اپنے اونٹوں کی گردنوں میں ریشم کی رسیاں لٹکاتے تھے تاکہ انہیں نظر بد نہ لگے آپ نے ان کے کاٹنے کا حکم دیا کہ یہ رسیاں وغیرہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو رد نہیں کر سکتیں۔ (۲) ان رسیوں کے لٹکانے سے اس لیے روکا گیا کیونکہ دوڑ کے وقت جانورکا گلا بند ہو جاتا تھا اور وہ تکلیف محسوس کرتا تھا۔ اسی قول کو ابو عبید نے ترجیح دی ہے اور کہا ہے کہ اس لیے منع کیا کیونکہ جانور اس سے تکلیف اٹھاتا ہے اور اس کا سانس لینا اور چرنا مشکل ہو جاتا ہے بسا اوقات درخت سے لٹک جاتا ہے اور گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ (۳) وہ لوگ ان رسیوں میں گھنیٹاں لٹکاتے تھے۔ اسی قول کو امام خطابی نے بیان کیا ہے اور امام بخاری کی تبویب بھی اسی طرف دلاتی کرتی ہے۔ (مرتب)