كتاب اللباس والزينة باب لا تدخل الملائكة بيتًا فيه كلب ولا صورة صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ إِنِّي إِنْسَانٌ إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي، وَإِنِّي أَصْنَعُ هذِهِ التَّصَاوِيرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاِسٍ: لاَ أُحَدِّثُكَ إِلاَّ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فَإِنَّ اللهِ مُعَذِّبَهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا فَرَبَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً، وَاصْفَرَّ وَجْهُهُ فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنْ أَبَيْتَ إِلاَّ أَنْ تَصْنَعَ، فَعَلَيْكَ بِهذَا الشَّجَرِ، كُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ
کتاب: لباس اور زینت کے بیان میں
باب: جس گھر میں کتا یا تصویر ہو اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے
سعید بن ابو الحسن صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماکی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کہ اے ابو عباس! میں ان لوگوں میں سے ہوں، جن کی روزی اپنے ہاتھ کی صنعت پر موقوف ہے اور میں یہ مورتیں بناتا ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہمانے اس پر فرمایا کہ میں تمھیں صرف وہی بات بتلاؤں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ جس نے بھی کوئی مورت بنائی تو اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک عذاب کرتا رہے گا جب تک وہ شخص اپنی مورت میں جان نہ ڈال دے اور وہ کبھی اس میں جان نہیں ڈال سکتا (یہ سن کر) اس شخص کا سانس چڑھ گیا اور چہرہ زرد پڑ گیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمانے فرمایا کہ افسوس! اگر تم مورتیں بنانی ہی چاہتے ہو تو ان درختوں کی اور ہر اس چیز کی جس میں جان نہ ہو مورتیں بنا سکتے ہو۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 104 باب بيع التصاوير التي ليس فيها روح وما يكره من ذلك