كتاب اللباس والزينة باب تحريم استعمال إِناء الذهب والفضة على الرجال والنساء، وخاتم الذهب والحرير على الرجل وإِباحته للنساء، وإِباحة العلم ونحوه على الرجل ما لم يزد على أربع أصابع صحيح حديث حُذَيْفَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ حُذَيْفَةَ، فَاسْتَسْقَى، فَسَقَاهُ مَجُوسِيٌّ فَلَمَّا وَضَعَ الْقَدَحَ فِي يَدِهِ رَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: لَوْلاَ أَنِّي نَهَيْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلاَ مَرَّتَيْنِ كَأَنَّهُ يَقُولُ لَمْ أَفْعَلْ هذَا وَلكِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لاَ تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ وَلاَ الدِّيبَاجَ وَلاَ تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالفِضَّةِ، وَلاَ تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الآخِرَةِ
کتاب: لباس اور زینت کے بیان میں
باب: سونے چاندی کے برتنوں کا استعمال مردوں اور عورتوں کے لیے حرام ہے‘ سونے کی انگوٹھی اور ریشم مردوں پر حرام ہے اور عورتوں کے لیے استعمال کرنا جائز ہے
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ ہم لوگ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھے۔ انہوں نے پانی مانگا تو ایک مجوسی نے ان کو پانی (چاندی کے پیالے) میں لا کر دیا۔ جب اس نے پیالہ ان کے ہاتھ میں دیا تو انہوں نے پیالہ کو اس پر پھینک کر مارا اور کہا اگر میں نے اسے بارہا اس سے منع نہ کیا ہوتا (کہ چاندی سونے کے برتن میں مجھے کچھ نہ دیا کرو) آگے وہ یہ فرمانا چاہتے تھے کہ تو میں اس سے یہ معاملہ نہ کرتا لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ریشم ودیباج نہ پہنو اور نہ سونے چاندی کے برتن میں کچھ پیو اور نہ ان کی پلیٹوں میں کچھ کھاؤ کیونکہ یہ چیزیں ان (کفار کے لئے) دنیا میں ہیں اور ہمارے لئے آخرت میں ہیں۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 70 كتاب الأطعمة: 29 باب الأكل في إناء مفضض