كتاب الأشربة باب جواز استتباعه غيره إلى دار من يثق برضاه بذلك ويتحققه تحققًا تامًا، واستحباب الاجتماع على الطعام صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: لَمَّا حُفِرَ الْخَنْدَقُ، رَأَيْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا شَدِيدًا، فَانْكَفَأْتُ إِلَى امْرَأَتِي، فَقُلْتُ: هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ فَإِنِّي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا شَدِيدًا فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ جِرَابًا، فِيهِ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ، وَلَنَا بُهَيْمَةٌ دَاجِنٌ، فَذَبَحْتُهَا، وَطَحَنَتِ الشَّعِيرَ فَفَرَغَتْ إِلَى فَرَاغِي وَقَطّعْتُهَا فِي بُرْمَتِهَا، ثُمَّ وَلَّيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ: لاَ تَفْضَحْنِي بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبِمَنْ مَعَهُ فَجِئْتُهُ فَسَارَرْتُهُ؛ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا، وَطَحَنَّا صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، كَانَ عِنْدَنَا، فَتَعَالَ أَنْتَ وَنَفَرٌ مَعَكَ فَصَاحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ سُورًا، فَحَيَّ هَلاً بِكُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَكُمْ، وَلاَ تَخْبِزُنَّ عَجِينَكُمْ حَتَّى أَجِيءَ فَجِئْتُ، وَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقْدُمُ النَّاسَ، حَتَّى جِئْتُ امْرأَتِي فَقَالَتْ: بِكَ وَبِكَ فَقُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي قُلْتِ فَأَخْرَجَتْ لَهُ عَجِينًا، فَبَصَقَ فِيهِ وَبَارَكَ ثُمَّ عَمَدَ إِلَى بُرْمَتِنَا فَبَصَقَ وَبَارَكَ ثُمَّ قَالَ: ادْعُ خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعِي، وَاقْدَحِي مِنْ بُرْمَتِكُمْ وَلاَ تُنْزِلُوهَا وَهُمْ أَلْفٌ فَأَقْسِمُ بِاللهِ لقَدْ أَكَلُوا حَتَّى تَرَكُوهُ وَانْحَرفُوا، وَإِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَعِطُّ كَمَا هِيَ، وَإِنَّ عَجِينَنَا لَيخْبَزُ كَمَا هُوَ
کتاب: پینے کی اشیاء کا بیان
باب: اگر مہمان کو یقین ہو کہ میزبان دوسرے کسی شخص کو ساتھ لے جانے سے ناراض نہیں ہو گا تو ساتھ لے جا سکتا ہے اور اکٹھے کھانا مستحب ہے
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب خندق کھودی جا رہی تھی تو میں نے معلوم کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی بھوک میں مبتلا ہیں۔ میں فوراً اپنی بیوی کے پاس آیا اور کہا: کیا تمہارے پاس کوئی کھانے کی چیز ہے؟ میرا خیال ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی بھوکے ہیں میری بیوی ایک تھیلا نکال کر لائیں جس میں ایک صاع جو تھے گھر میں ہمارا ایک بکری کا بچہ بھی بندھا ہوا تھا میں نے بکری کے بچے کو ذبح کیا اور میری بیوی نے جَو چکی میں پیسے۔ جب میں ذبح سے فارغ ہوا تو وہ بھی جو پیس چکی تھیں میں نے گوشت کی بوٹیاں کرکے ہانڈی میں رکھ دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میری بیوی نے پہلے ہی تنبیہ کر دی تھی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے سامنے مجھے شرمندہ نہ کرنا، چنانچہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے کان میں یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم نے ایک چھوٹا سا بکری کا بچہ ذبح کر لیا ہے اور ایک صاع جو پیس لئے ہیں جو ہمارے پاس تھے، اس لئے آپ دو ایک صحابہ کو ساتھ لے کر تشریف لے چلیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت بلند آواز سے فرمایا‘ اے اہل خندق! جابر رضی اللہ عنہ نے تمہارے لئے کھانا تیار کروایا ہے۔ بس اب سارا کام چھوڑ دو اور جلدی چلے چلو‘ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک میں آنہ جاؤں ہانڈی چولھے پر سے نہ اتارنا اور نہ آٹے کی روٹی پکانی شروع کرنا۔ میں اپنے گھر آیا ادھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے میں اپنی بیوی کے پاس آیا تو وہ مجھے برا بھلا کہنے لگیں میںنے کہا کہ تم نے جو کچھ مجھ سے کہا تھا میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عرض کر دیا تھا آخر میری بیوی نے گندھا ہوا آٹا نکالا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنے لعاب دہن مبارک کی آمیزش کر دی اور برکت کی دعا کی۔ ہانڈی میں بھی آپ نے لعاب مبارک کی آمیزش کی اور برکت کی دعا کی۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ اب روٹی پکانے والی کو بلاؤ۔ وہ میرے سامنے روٹی پکائے اور گوشت ہانڈی سے نکالے لیکن چولھے سے ہانڈی نہ اتارنا۔ صحابہ کی تعداد ہزار کے قریب تھی میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں کہ اتنے ہی کھانے کو سب نے (شکم سیر ہو کر ) کھایا اور کھانا بچ بھی گیا۔ جب تمام لوگ واپس ہوگئے تو ہماری ہانڈی اسی طرح ابل رہی تھی‘ جس طرح شروع میں تھی اور آٹے کی روٹیاں برابر پکائی جا رہی تھیں۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 29 باب غزوة الخندق وهي الأحزاب