كتاب الأشربة باب جواز شرب اللبن صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ، بِإِيليَاءَ، بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا، فَأَخَذَ اللَّبَنَ قَالَ جِبْرِيلُ: الْحَمْدُ للهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ، لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ
کتاب: پینے کی اشیاء کا بیان
باب: دودھ پینے کا جواز
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ معراج کی رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیت المقدس میں دو پیالے پیش کئے گئے ایک شراب کا اور دوسرا دودھ کا۔ آنحضرتﷺ نے دونوں کو دیکھا پھر دودھ کا پیالہ اٹھا لیا۔ اس پر جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ تمام حمد اس اللہ کے لیے ہے جس نے آپ کو فطرت (اسلام) کی ہدایت کی۔ اگر آپ شراب کا پیالہ اٹھا لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔
تشریح :
فوائد کے لحاظ سے دودھ اللہ کی بڑی زبردست نعمت ہے۔ ایسا ہی فوائد سے بھر پور دین اسلام ہے۔ لہٰذا دودھ سے دین فطرت کی تعبیر کی گئی۔ (راز)
تخریج :
أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 17 سورة بني إسرائيل: 3 حدثنا عبدان
فوائد کے لحاظ سے دودھ اللہ کی بڑی زبردست نعمت ہے۔ ایسا ہی فوائد سے بھر پور دین اسلام ہے۔ لہٰذا دودھ سے دین فطرت کی تعبیر کی گئی۔ (راز)