كتاب الأشربة باب إِباحة النبيذ الذي لم يشتد ولم يصر مسكرًا صحيح حديث سَهْلٍ، قَالَ: لَمَّا عَرَّسَ أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَصْحَابَهُ فَمَا صَنَعَ لَهُمْ طَعَامًا وَلاَ قَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ، إِلاَّ امْرَأَتُهُ، أُمُّ أُسَيْدٍ بَلَّتْ تَمَرَاتٍ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الطَّعَامِ أَمَاثَتْهُ لَهُ، فَسَقَتْهُ، تُتْحِفُهُ بِذلِكَ
کتاب: پینے کی اشیاء کا بیان
باب: جس نبیذ میں تیزی نہ آئی ہو اور نہ اس میں نشہ ہو وہ حلال ہے
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب حضرت ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے شادی کی تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہ کو دعوت دی۔ اس موقع پر کھانا ان کی دلہن ام اسید رضی اللہ عنہ نے ہی تیار کیا تھا۔ انہوں نے ہی مردوں کے سامنے رکھا۔ انہوں نے پتھر کے ایک بڑے پیالے میں رات کے وقت کھجوریں بھگو دی تھیں اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو انہوں نے ہی اس کا شربت بنایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (تحفہ کے طور پر) پینے کیلئے پیش کیا۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 77 باب قيام المرأة على الرجال في العرس وخدمتهم بالنفس