اللولؤ والمرجان - حدیث 1290

كتاب الأضاحي باب ما كان من النهي عن أكل لحوم الأضاحي بعد ثلاث في أول الإسلام وبيان نسخه وإِباحته إِلى من شاء صحيح حديث سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلاَ يُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَةٍ وَفِي بَيْتِهِ مِنْهُ شَيْءٌ فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا عَامَ الْمَاضِي قَالَ: كُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا، فَإِنَّ ذَلِكَ الْعَامَ، كَانَ بِالنَّاسِ جَهْدٌ فَأَرَدْتُ أَنْ تُعِينُوا فِيهَا

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1290

کتاب: قربانی کے احکام و مسائل باب: ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے ممانعت تھی اور اس کے منسوخ ہونے کا بیان حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تم میں سے قربانی کی تو تیسرے دن وہ اس حالت میں صبح کرے کہ اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ بھی باقی نہ ہو۔ دوسرے سال صحابہ کرام رضی اللہ عنہ م نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا ہم اس سال بھی وہی کریں جو پچھلے سال کیا تھا۔ (کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ رکھیں) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب کھاؤ، کھلاؤ اور جمع کرو۔ پچھلے سال تو چونکہ لوگ تنگی میں مبتلا تھے، اس لئے میں نے چاہا کہ تم لوگوں کی مشکلات میں ان کی مدد کرو۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 73 كتاب الأضاحي: 16 باب ما يؤكل من لحوم الأضاحي وما يتزود منها